بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گاہک کو سامان دلانے کا کمیشن لینا

سوال

کیا گاہک کو سامان دلانے کے بعد کمیشن لینا جائز ہے؟

 

جواب

  جو لوگ مختلف افراد  یامختلف کمپنیوں کا مال  کسی اور کو دلواتے  اور خریدواتے ہیں اور اپنا مقررہ  کمیشن وصول کرتے ہیں، ان کا یہ کمیشن وصول کرنا شرعًاجائز ہوتا ہے،  لہذا گاہک کو سامان دلانے کے بعد اس سے پہلے سے طے شدہ  کمیشن لینا جائز ہے ۔

باقی اگر آپ اس کے علاوہ کسی  خاص  صورت کا جواب معلوم کرنا چاہتے ہیں تو مکمل وضاحت کے ساتھ اپنا جواب لکھ کر ارسال فرمادیں۔

فتاوی شامی میں ہے ۔

"قال في التاترخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم،  وفي الحاوي:  سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام".

( کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ جلد ۶ / ۶۳ / ط: دار الفکر بیروت ) 

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144301200151
تاریخ11-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں