بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے وسیلہ سے دعا مانگ سکتے ہیں؟

سوال

 کیا امام حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے وسیلے  سے دعا مانگ سکتے  ہیں؟

جواب

اللہ تعالی سے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے وسیلہ سے دعا مانگنا جائز ہے، البتہ وسیلے کو ضروری سمجھنا یا یہ عقیدہ رکھنا کہ وسیلہ کے بغیر اللہ تعالی دعا قبول نہیں کرتا،  یہ غلط ہے،  اور یاد رہے کہ کسی پیغمبر  یا صحابی یا ولی  سے دعا مانگنایا اپنی حاجت کا سوال کرنا  وسیلہ نہیں، بلکہ شرک ہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"وقال السبكي: يحسن التوسل بالنبي إلى ربه، ولم ينكره أحد من السلف و لا الخلف إلا ابن تيمية؛ فابتدع ما لم يقله عالم قبله."

(كتاب الحظر والإباحة، (6/ 397)، ط. سعيد)

حجة الله البالغة میں ہے:

"ومن آداب الدعاء تقديم الثناء على الله والتوسل بنبي الله، ليستجاب الدعاء."

(ابواب الصلاة، الأمور التي لا بد منها في الصلاة (2/ 10)،ط. دار الجيل، بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144301200126
تاریخ11-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں