بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رات میں تدفین کرنے کا حکم

سوال

میت کی تدفین میں  جلدی کرنا سنت ہے،  لیکن اگر کسی کا انتقال رات عشاء کے وقت ہو، تو رات کو اندھیرے میں تدفین کرنا خلافِ سنت ہے یا نہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ میّت کی تدفین رات میں کرنا خلافِ سنّت نہیں ہے،   آپ  ﷺ  کی وفات مشہور قول کے مطابق سن گیارہ ہجری، ماہ ربیع الاول میں بروز  پیر  دن میں ہوئی، اور پھر اس روز خلافت کے معاملات طے ہونے کے بعدمنگل اور   بدھ  کی درمیانی  شب میں  آپ ﷺ  کی تدفین ہوئی۔ہاں جس جگہ روشنی کا انتظام نہ ہو،  وہاں صبح تک  تدفین میں تاخیر کرنا بلا کراہت  جائز  ہے ۔

مسند أحمد بن حنبل میں ہے:

"عن عائشة، قالت: " توفي النبي صلى الله عليه وسلم يوم الاثنين، و دفن ليلة الأربعاء."

(مسند النساء، مسند الصديقة عائشة بنت الصديق رضي الله عنها، رقم الحدیث:24790، ج:41، ص:300، ط:مؤسسۃ الرسالۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144301200055
تاریخ10-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں