بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کا مسجد کے چندہ سے چوری چھپے پیسے اٹھانا

سوال

ایک امام صاحب  ہر مہینہ پانچ ہزار روپے ،تنخواہ  ملنے کے باوجود، جمعہ کے  دن چندہ جمع کرتے وقت کچھ پیسے ویسے ہی متولی سے چھپ کر اٹھالیتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً امام صاحب مسجد کے  چندے  کے پیسوں میں  سے  چھپ کر پیسے اٹھاتے ہیں تو ان کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے، امام صاحب پر لازم ہے کہ وہ  اپنے اس فعل سے توبہ کریں  اور اب تک جتنے پیسے مسجد کے  چندے  میں سے اٹھائے ہیں  وہ  واپس مسجد  کے پیسوں میں ڈالنا ضروری ہے، اگر امام صاحب کا  مقررہ تنخواہ  میں گزارہ نہیں ہوتا ہے تو انہیں چوری چھپے مسجد کے چندے کے پیسوں سے چوری کرنے کے بجائے مسجد کی کمیٹی/متولی سے اپنی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ اور مسجد انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ امام صاحب کو اتنی معقول تنخواہ دیں جو معتدل انداز میں ایک متوسط گھرانے کے اخراجات کے لیے کفایت کرے۔

تاہم اگر  واقعتًا امام ایسا نہ ہو ، بلکہ محض شک وشبہ یا سنی سنائی باتوں  سے امام پر یہ الزام ہو تو     کسی پر  بے بنیاد الزام لگانا، بہتان تراشی بہت ہی برا گناہ ہے، خصوصاً امام کے بارے میں پروپیگنڈے کرنا انتہائی نامناسب طرز ہے، مسلمان  کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144301200004
تاریخ10-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں