بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم بچے کو اپنے ساتھ کھانا کھلانا یا پانی پلانا

سوال

غیرمسلم بچے کو اپنے ساتھ  بٹھا  کر اپنا جوٹھا  کھانا کھلانا یا پانی،چاۓ جوٹھا پلانا کیسا ہے؟مطلب کھانا خود بھی کھارہےہو اور اس بچے کو بھی کھلا رہے ہوں،   ٹھیک ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں غیر مسلم بچے کو اپنے  ساتھ  بٹھا کر کھانا کھلانے یا پانی پلانے میں،   نیز اپنا جوٹھا کھلانے پلانے میں کوئی  حرج  نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(فسؤر آدمي مطلقاً) ولو جنباً أو كافراً أو امرأةً، نعم يكره سؤرها للرجل كعكسه؛ للاستلذاذ، واستعمال ريق الغير وهو لا يجوز، مجتبى، ( ومأكول لحم )، ومنه الفرس في الأصح، ومثله ما لا دم له(طاهر الفم ...)." (1 / 222)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202342
تاریخ09-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں