ابیان نام رکھنے کا حکم
سوال
ابیان نام رکھنا کیسا ہے؟
جواب
’’اَبیان‘‘ ہمزہ کے زبر اور باء کے سکون کے ساتھ لفظ ’’بَیِّن‘‘ کی جمع ہے، اس کے معنیٰ ہیں: فصیح البیان: یعنی خوش کلام یا خوش بیان۔
معنیٰ کے اعتبار سے مذکورہ نام رکھنا درست ہے۔ لیکن زیادہ بہتر یہ ہے بچوں کے نام انبیاء علیہم السلام یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے۔
لسان العرب (13/ 68):
"وَرَجُلٌ بَيِّنٌ: فَصِيحٌ، وَالْجَمْعُ أَبْيِناء، صحَّت الْيَاءُ لِسُكُونِ مَا قَبْلَهَا؛ وأَنشد شَمِرٌ:
قَدْ يَنْطِقُ الشِّعْرَ الغَبيُّ، ويَلْتَئي ... عَلَى البَيِّنِ السَّفّاكِ، وَهُوَ خَطيبُ
قَوْلُهُ: يَلتئي أَي يُبْطئ، مِنَ اللأْي وَهُوَ الإِبطاء.
وَحَكَى اللِّحْيَانِيُّ فِي جَمْعِهِ أَبْيان وبُيَناء، فأَما أَبْيان فكميِّت وأَموات، قَالَ سِيبَوَيْهِ: شَبَّهوا فَيْعِلًا بِفَاعِلٍ حِينَ قَالُوا شَاهِدٌ وأَشهاد، قَالَ: وَمِثْلُهُ، يَعْنِي ميِّتاً وأَمواتاً، قيِّل وأَقيال وكَيِّس وأَكياس، وأَما بُيِّناء فَنَادِرٌ".
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

