بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازِ جمعہ درست ہونے کے لیے جامع مسجد کا ہونا شرط نہیں ہے

سوال

ہماری کمپنی کے قریب ایک مسجد ہے،  جہاں جمعہ کی نما ز کے لیے  آس پاس کی کمپنیوں سے بھی لوگ آتے ہیں اور تقریبًا پندرہ سو افراد کا ایک بڑا اجتماع جمعہ ادا کرتاہے ۔ اب کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مسجد میں کچھ نمازیں ادا نہیں  کی جاتیں،  جیسے کبھی کبھار فجراور عشاء کی نماز نہیں ہوتی ؛  لہٰذا یہ جامع مسجد نہیں ہے اور یہاں جمعہ ادا نہیں کیا جاسکتا!

جواب

واضح رہے کہ  نمازِ جمعہ   کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے جامع مسجد کا ہونا شرط نہیں ہے ؛ ہاں شہر یا بڑی بستی ہونا شرط ہے؛ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں  شہر یا بڑی بستی میں موجود مذکورہ مسجد  میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی درست ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1 / 259):

"وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202329
تاریخ09-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں