بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدتِ وفات کے کل ایام

سوال

شوہر کی وفات 27 شعبان کو ہوئی تو عدت کب تک ہے؟

 

جواب

اگرکسی عورت کے  شوہر کا انتقال قمری (اسلامی) مہینے کی ابتدا یعنی پہلی تاریخ میں ہوا تواس صورت میں عورت کی  عدت چاند کے مہینوں کے اعتبار سے چار ماہ دس دن پوری کرنا لازم ہوگی، خواہ کوئی مہینہ انتیس کا ہی کیوں نہ ہو۔اور اگر شوہر کا انتقال مہینے کے درمیان میں ہوا ہو تو   کل 130 دن شمار کرکے عدت گزارنا لازم ہوگا، لہذا بصورتِ  مسئولہ   مذکورہ عورت کے شوہر کے انتقال سے 130 دن جب پورے ہوجائیں عدت پوری ہوجائے گی۔ اور دنوں کو چوبیس گھنٹے کے حساب سے شمار کیا جائے گا، یعنی جس وقت انتقال ہوا، ٹھیک اسی وقت اگلے دن ایک دن پورا سمجھا جائے گا۔

"فتاوی شامی" میں ہے: 

'' في المحيط: إذا اتفق عدة الطلاق والموت في غرة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلة وإن نقصت عن العدد، وإن اتفق في وسط الشهر. فعند الإمام يعتبر بالأيام، فتعتد في الطلاق بتسعين يوماً، وفي الوفاة بمائة وثلاثين''. (3/ 509)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202301
تاریخ08-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں