بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے پرانے پنکھے بیچنا

سوال

مسجد میں آیا ہوا مال پنکھے وغیرہ ہوں اور وہ ہدیۃً آئے  ہوں اور کوئی  شخص اُس کو  خریدنا چاہتا ہو  تو کیا یہ  جائز ہے یا نہیں ؟


جواب

اگر مسجد کے لیے وقف اشیاء فی الحال استعمال میں نہ ہوں، لیکن آئندہ استعمال کی امید ہو اور وہ اشیاء محفوظ رہ سکتی ہوں تو انہیں فروخت نہ کیا جائے، بلکہ محفوظ رکھا جائے اور بوقتِ ضرورت اسی مسجد میں ہی استعمال کیا جائے،  البتہ اگر آئندہ استعمال کی امید نہ ہو، یا محفوظ کرنا ممکن نہ ہو، ضائع  ہونے کا امکان ہو تو مسجد  کی ملکیت میں موجود زائد از ضرورت اشیاء کو بیچنا اور خریدنے والے کے لیے بازار کی قیمت پر خرید کر استعمال کرنا جائز ہے،  لیکن  قیمتِ فروخت کو  مسجد میں ہی صرف کیا جانا ضروری ہے ۔

الفتاوى الهندية (2/ 459):

"حشيش المسجد إذا كانت له قيمة فلأهل المسجد أن يبيعوه وإن رفعوا إلى الحاكم فهو أحب ثم يبيعوه بأمره هو المختار، كذا في جواهر الأخلاطي."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202280
تاریخ08-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں