بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کو غسل دینے کی اجرت لینا

سوال

میت کو غسل دینے کی اجرت لینا کیسا ہے؟

 

جواب

میت کو غسل دینے کی اجرت نہ لینا بہتر ہے، البتہ اگر کوئی شخص غسل کی اجرت لینا چاہتا ہے تو لے سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے علاوہ دیگر افراد غسل دینا جانتے ہوں، اگر  اس کے علاوہ کوئی دوسرا شخص غسل دینا نہ جانتا ہو تو ایسی صورت میں چوں کہ غسل دینا اِسی  کے ذمہ لازم ہے تو  اس کے لیے اجرت لینا درست نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 199):

"(و الأفضل أن يغسل) الميت (مجانًا، فإن ابتغى الغاسل الأجر جاز إن كان ثمة غيره وإلا لا) لتعينه عليه."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202269
تاریخ08-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں