بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عاجل اور حمامہ نام رکھنا

سوال

عاجل اور حمامہ نام رکھنا کیسا ہے؟  کوئی اچھا سا نام تجویز کر دیں اگر یہ نام اچھا نہ ہو۔

 

جواب

"حمامہ" کا معنیٰ ہے: کبوتر۔  يه صحابيات كے ناموں ميں سے  هے، اس ليے لڑكي كا یہ نام رکھنا جائز هے۔

"عاجل" کا معنیٰ ہے: جلد باز، جلدی کرنے والا۔ یہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے۔   اس کے  بجائے  صحابیات رضوان الله عليهم اجمعين   کے ناموں کو ترجیح دی جائے  یا دوسرے اچھے بامعنی نام کا انتخاب کرلیا جائے، ہماری ویب سائٹ پر اچھے بامعنی نام موجو د ہیں،اس سے آپ نام  کا انتخاب کرسکتے ہیں،اس کا لنک درج ذیل ہے:

اسلامی نام

«الإصابة في تمييز الصحابة» (8/ 88):

"‌حمامة  :

ذكرها أبو عمر فيمن كان يعذّب في اللَّه، فاشتراها أبو بكر، فأعتقها ولم يفرد لها ترجمة في الاستيعاب، واستدركها ابن الدباغ. قلت: واستدركها أيضا أبو عليّ الغسّانيّ، وقال: إنها أم بلال المؤذن، وإن أبا عمر ذكرها في كتاب الدرر في المغازي والسير."

«لسان العرب» (11/ 68):

"وبِلال: اسْمُ رَجُلٍ. وبِلال بْنُ ‌حَمَامَةَ: مُؤَذِّنُ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنَ الْحَبَشَةِ."

«لسان العرب» (12/ 158):

"الحَمامة طَائِرٌ، تَقُولُ الْعَرَبُ: ‌حمامَةٌ ذكرٌ وَحَمَامَةٌ أُنثى، وَالْجَمْعُ الحَمام. ابْنُ سِيدَهْ: الحَمام مِنَ الطَّيْرِ البَرّيُّ الَّذِي لَايأْلَف الْبُيُوتَ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202268
تاریخ08-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں