بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حُرَیر نا م کا معنیٰ

سوال

”حُرَیر“  نا م کا معنیٰ بتا دیں۔ (ح کے اوپر پیش ہے اور راء  کے اوپر زبر  ہے ۔) 

جواب

لفظِ "حُریر" کے اصلی حروف "ح ر ر" ہیں، اور "حر" کا معنیٰ کتابوں میں "شریف انسان"  لکھا ہے اور کتابوں میں اہلِ  عرب سے "حُریر"   نام کا رکھا جانا منقول بھی ہے؛  لہذا "حُریر" نام رکھا جا سکتا ہے۔

تاج العروس من جواهر القاموس (10/ 587):

"(و حُريْر كزُبَيْرٍ ) أَبو الحُصَيْنِ ، ( شيخُ إِسحاقَ بنِ إِبراهيمَ المَوْصَلِيِّ ) النَّدِيمِ المشهورِ . 

 (و قَيْسُ بنُ عُبَيْدِ بنِ  حُرَيْرِ) بنِ عَبْدِ بنِ الجَعْدِ النَّجّارِيُّ المازِنِيُّ أَبو بَشِيرٍ : (صَحَابِيٌّ) ، قُتِلَ باليَمَامَةِ وَرَوَى عنه ضَمْرةُ بنُ سَعيدٍ."

تكملة المعاجم العربية (3/ 104):

"حَرّ: يستعمل بمعنى حارّ (انظر لين في مادة حارّ) يقال اليوم حرّ أي اليوم حار واليوم الشمس حر أي الشمس حارة اليوم (بوشر) ... حُرّ: كريم، شريف."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202261
تاریخ08-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں