بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی تسکینِ شہوت کے لیے بیوی کا تدبیر کرنا

سوال

اگر شوہر کو آئے دن جنسی تقاضہ ہو یہاں تک کہ حیض کے بھی اَیّام میں اس کا اصرار ہو کہ بیوی ہاتھ  سے اس  کی تسکین  کردے تو شرعًا اس کا کیا حکم ہے؟ کیا بیوی ہاتھ سے شوہر کی جنسی تسکین پوری کر سکتی ہے؟

حیض کے دنوں میں بھی اور عام دنوں میں بھی بیوی پیر اور کمر میں درد کی وجہ سے اس کی خواہش پوری نہیں کر پاتی تو اس کا اصرار ہوتا ہے کہ ہاتھ سے کر لیا جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر شوہر پر شہوت کا غلبہ ہو ،اور شہوت پوری نہ ہونے کی صورت میں کسی گناہ میں مبتلا ہونے کا  اندیشہ ہو تو   ایسا کرنا جائز ہے۔ 

تفصیل کے  لیے دیکھیے:

حیض کی حالت میں بیوی سے کس حد تک قربت جائز ہے؟

 الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:

قال ابن عابدين: سأل أبو يوسف أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا؟ قال: لا، وأرجو أن يعظم الأجر  وقد نص أهل العلم على جواز الاستمناء بيد الزوجة۔ قال صاحب الإقناع: وللزوج الاستمتاع بزوجته كل وقت على أي صفة كانت إذا كان في القبلولو كان الاستمتاع في القبل من جهة عجيزتها   لقوله تعالى: {نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم}. "

( ٣٠ / ١٢٤، ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202237
تاریخ08-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں