بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلامی بینکاری کا حکم

سوال

اسلامی بینک  میں  مضاربہ  کے نام سے رقم جمع کرنے کے بعد جو بعد میں جمع  کی ہوئی رقم سے زیادہ ملتا ہے ،تو کیا یہ زیادہ رقم لینا جائز ہے ،اور مضاربت  جیسے نام سے پیسہ اسلامی بینک میں جمع کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

مروجہ اسلامی بینک   بھی ناجائز معاملات سے پاک نہیں ہیں، لہذا بوقتِ ضرورت کرنٹ اَکاؤنٹ  اور  لاکر کے علاوہ دیگر کسی قسم کا معاملہ ان بینکوں سے کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

تفصیل کے لیے درج ذیل دوکتابوں کامطالعہ مفید ہوگا:

1: "مروجہ اسلامی بینکاری" شائع کردہ مکتبہ بینات، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

2: "غیرسودی بینکاری"، ایک منصفانہ علمی جائزہ از مفتی احمدممتاز صاحب ۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144212202234
تاریخ08-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں