بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں بھول جانے کی وجہ سے دوسرے مقام سے قراءت کرنا

سوال

اگر امام سورۃ الفاتحہ کے بعد  کسی سورت  کی ایک یا دو آیت پڑھے اور پھر بھول جانے پر کوئی دوسری سورت  پڑھ لے تو نماز کیا  بغیر سجدۂ  سہو کے ادا ہو جائے گی؟ یعنی امام نے سورۃ یوسف  کی دو آیات کی تلاوت کی اور پھر بھولنے پر سورۂ  شمس پڑھ لی اور بغیر سجدہ سہو کے نماز مکمل کرلی۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سجدہ سہو واجب نہ ہوگا،  نماز درست ہوجائے گی، اعادہ  کی  بھی ضرورت نہ ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و لاينبغي للإمام أن يلجئهم إلى الفتح؛ لأنه يلجئهم إلى القراءة خلفه وإنه مكروه، بل يركع إن قرأ قدر ما تجوز به الصلاة، وإلا ينتقل إلى آية أخرى، كذا في الكافي. وتفسير الإلجاء: أن يردد الآية أو يقف ساكتاً، كذا في النهاية."

( الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها ، الفصل الأول فيما يفسدها، ١ / ٩٩، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202228
تاریخ08-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں