بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سنت مؤکدہ چھوڑنے پر عذاب

سوال

کیا سنت موکدہ کو کثرت کے ساتھ چھوڑنے پر قیامت کے دن عذاب ہوگا؟

جواب

سنت مؤکدہ کااہتمام کرناواجب کے قریب ہے،کبھی بلاعذر چھوٹ جائے تو گنجائش ہےمگر ترک کی عادت گناہ ہے۔نیز سنت کو چھوڑنے والا   قیامت میں آپ ﷺ کی شفاعت سے محروم رہےگا۔

البحرالرائق میں ہے:

'' سنة مؤكدة قويةقريبة من الواجب حتى أطلق بعضهم عليه الوجوب، ولهذا قال محمد: لو اجتمع أهل بلد على تركه قاتلناهم عليه، وعند أبي يوسف يحبسون ويضربون وهو يدل على تأكده لا على وجوبه''۔[3/6]

فتاویٰ شامی میں ہے:

'' ولهذا كانت السنة المؤكدةقريبة من الواجب في لحوق الإثم كما في البحر ويستوجب تاركها التضليل واللوم كما في التحرير أي على سبيل الإصرار بلا عذر ''۔[2/12]۔ فقط واللہ اعلم۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202199
تاریخ07-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں