بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کون سا گناہ نا قابل معافی ہے؟

سوال

کون ساگناہ ناقابلِ  معافی ہے؟

جواب

اگر کوئی آدمی کسی گناہ کا ارتکاب کرے  چاہے  وہ گناہ بڑا ہو یا چھوٹا اور  چاہے  جان بوجھ کر ہو یا  اَن جانے میں،  اگر  وہ  نزع  کی حالت  سے پہلے پہلے صدقِ دل سے اپنے اس گناہ پر نادم ہوکر توبہ  و استغفار کرتا ہے تو  اللہ تعالیٰ اس گناہ کو معاف فرمادیتے ہیں۔

اگر وہ گناہ  بندوں کے حقوق سے متعلق  ہو مثلاً کسی کا مال ناجائز طریقہ پر دبایا ہو  تو اِس کی تلافی کا طریقہ یہ ہے کہ صاحبِ حق کو اُس کا حق دے دیا جائے، وہ موجود نہیں ہے تو اس کے ورثاء کو دے دیا جائے اور ساتھ میں توبہ بھی کی جائے، یا صاحبِ حق سے معافی تلافی کرلی جائے۔

اور اگر کوئی شخص کفر یا شرک  کی حالت میں توبہ  کیے بغیر  مرجائے  تو اس کے لیے معافی نہیں ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں:

کن گناہوں کی معافی نہیں ہے؟

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202166
تاریخ07-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں