بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

استغفر اللہ میں ہمزہ پر کسرہ ہے یا فتحہ؟

سوال

استغفراللہ ،" الف کے  فتح کے ساتھ" اور    استغفراللہ الف کے  کسرہ کے ساتھ کیا فرق ہے؟

جواب

کلمہ  "أَسْتَغْفِرُ اللہ" کو   ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ  پڑھنا درست تلفظ ہے،  اور صَرفی اعتبار سے یہ متکلم کا صیغہ ہے،اس کا معنی ہے: ”میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں“  اس کلمہ کو کسرہ کے ساتھ پڑھنا غلط ہے اور یہ کوئی صیغہ ہی نہیں، ہاں! اس کا مصدر "استغفار" ہے اور اس میں ہمزہ پر کسرہ ہے،نیز  ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ اس باب سے امر کا صیغہ استعمال ہوتاہے،  ایسی صورت میں ہمزہ اور فاء دونوں پر کسرہ پڑھا جائے گا  "ِإستَغفِر اللہ" اس کا معنی ہے: ”تو اللہ سے مغفرت طلب کر“۔فقط  واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202162
تاریخ07-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں