بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خالہ کے مکان کے لیے پیسے جمع کیے اور خود خرچ کردیے

سوال

میں نے خالہ کے مکان کے لیے پیسے جمع کیے، میری نیت سو فیصد ٹھیک تھی جب جمع کررہا تھا ،مگر بعد میں میرے اپنے حالات بہت خراب ہوگئے جس کی وجہ سے میں وہ پیسے میں نے استعمال کرلیے،  میں خود بے روزگار ہوگیا،  کوئی حل بتائیں !

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائل نے  اپنی خالہ کے مکان کے لیے جو پیسے جمع کیے تھے،  اگر  یہ سائل کی  اپنی آمدن میں سے بطورِ  تبرع اور احسان  تھے تو  سائل کا اپنی ضرورت  میں استعمال کرنا درست ہے،  اور   اگر  سائل نے یہ پیسے کسی سے خالہ کے نام لیے تھے ، یا کوئی اور صورت تھی تو اس  کی وضاحت  لکھ کر بھیج دیں،  تب جواب دیا جائے گا ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(صحّ الرجوع فيها بعد القبض) أما قبله فلم تتمّ الهبة."

( کتاب الهبة، باب الرجوع  في الهبة، جلد ۵ / ۶۹۸ / ط : دار لفکر ) 

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144212202148
تاریخ07-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں