بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں ضاد کو دال پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

سوال

نماز  میں  ضاد کو  دال پڑھنے  کا  کیا  حکم ہے؟

جواب

 ضاد اور دال الگ الگ حروف ہیں، ضاد کو اپنی اصلی مخرج سے ادائیگی پر قدرت کے باوجود قصدًا  خالص دال پڑھنا  غلط ہے ۔ جو شخص مخارج وصفات سے واقف ہو ، اور  نماز میں جان بوجھ  کر  ضاد کی جگہ دال  پڑھے تو جس جگہ معنی میں تغیر فاحش پیدا ہوجائے گا ، نماز فاسد ہوجائے گی، اور جو شخص  مخارج اور صفات سے نا واقف ہو ، اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی۔ دیکھیے: (جواہر الفقہ:حرف ضاد، اعدل الاقوال (3/ 34)، ط. مكتبه دار العلوم)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202128
تاریخ06-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں