بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خیرات کی رقم مسجد میں دینا کیسا ہے؟

سوال

خیرات کے پیسے مسجد میں خرچ کرسکتے ہیں؟

 

جواب

زکاۃت اور صدقاتِ واجبہ  کی رقم مسجد میں دینا اور اسے مسجد  میں استعمال کرنا درست نہیں ہے، البتہ نفلی صدقات مسجد میں دینا اور ان  کی رقم استعمال کرنا جائز ہے۔  عام طور پر خیرات سے مراد نفلی صدقہ ہوتا ہے، جسے مسجد میں خرچ کرنا جائز ہے۔

      فتاوی عالمگیری میں  ہے:

' لايجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، و إصلاح الطرقات، و كري الأنهار، و الحج و الجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، و لايجوز أن يكفن بها ميت، و لايقضى بها دين الميت، كذا في التبيين.' 

(1/ 188،  کتاب الزکاة، الباب السابع فی المصارف، ج: 1، صفحہ: 188، ط، دار الفکر)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202117
تاریخ06-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں