بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غسل سے قبل اذان کا جواب دینا

سوال

اگر غسل  فرض ہو  اور  غسل  سے  پہلے اذان  ہو جائے تو  کیااذان کا جواب دیا جاسکتا ہے؟

جواب

واضح  رہے  کہ  جنابت  کی حالت میں صرف قرآنِ مجید  کی تلاوت کرنا اسے  چھونا اور مسجد میں داخلہ وغیرہ  منع ہے،  ذکر و اذکار ،درود شریف پڑھنے،قرآنِ کریم کے علاوہ کوئی وظیفہ اور اذکار  پڑھنے  کی  ممانعت نہیں۔

 لہذاصورتِ  مسئولہ  میں غسلِ  جنابت (غسل فرض)  سے پہلےاذان کا جواب دیا جا سکتا ہے، البتہ ان اذکار اور اذان کے جواب کے لیے وضو کرنا مستحب ہے۔ تاہم ذہن نشین رہے کہ  اذان کا جواب دینے کا مذکورہ حکم  حیض و نفاس والی عورت کے لیے نہیں ہے،  کیوں کہ  وہ اس حالت میں نماز کی مخاطب نہیں ہے، لہٰذا اس کے لیے اذان کے جواب کا حکم بھی نہیں ہے، جیساکہ "فتاویٰ شامی"، "البحر الرائق"، "بہشتی زیور"  اور "آپ کے مسائل اور ان کا حل"  میں مذکور ہے۔

فتاوى هنديہ میں ہے:

’’و يجوز للجنب و الحائض الدعوات و جواب الأذان و نحو ذلك، کذا في السراجية.‘‘

(کتاب الطهارۃ، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، الفصل الرابع في أحكام الحيض و النفاس و الاستحاضة)

فقط  واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202114
تاریخ06-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں