بیوہ، چار بیٹیاں، سات بھائی اور چار بہنوں میں ترکے کی تقسیم
سوال
ورثاء: ایک بیوہ، چار بیٹیاں جن میں سے ایک غیر شادی شدہ ہے، جائیداد کی تقسیم کس طرح کی جائے جب کہ متوفی کے سات بھائی اور چار بہنیں بھی ہیں؟ برائے مہربانی اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب
صورتِ مسؤلہ میں مرحوم کے ترکے کی شرعی تقسیم یہ ہے کہ میت کے حقوق متقدمہ یعنی کفن دفن کا خرچہ نکالنے کے بعد ،اگر مرحوم کے ذمے کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی مال کی ایک تہائی میں سے اسے نافذ کرنے کے بعد ،باقی ماندہ ترکہ کو کل 432 حصوں میں تقسیم کر کے مرحوم کی بیوہ کو اس میں سے 54 حصے(یعنی 12.5%)، مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو 72 حصے(یعنی 16.7%)، مرحوم کے ہر ایک بھائی کو 10 حصے (یعنی 2.315٪) اور ہر ایک بہن کو 5 حصے(یعنی 1.16٪) ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

