بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے ہاتھ میں تین کنکر دے کر کہا

سوال

شوہر بیوی کو تین کنکر ہاتھ میں دے کر کہتا ہے تو آزاد ہے تو  کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں کنکر  ہاتھ میں دینے سے طلاق واقع نہیں ہوئی البتہ "تو آزاد ہے" کہنے سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہے، ساتھ رہنے کے لیے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 230):

"و به ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظًا لا صريحًا و لا كنايةً لايقع عليه، كما أفتى به الخير الرملي وغيره، و كذا ما يفعله بعض سكان البوادي."

   فقط واللہ  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201997
تاریخ05-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں