بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں ربنا لک الحمد کے بجائے آمین کہنا

سوال

"ربنا لک الحمد "کے بجائے "آمین "پڑھے، وہ  مقتدی امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے،  کیا ایسا کرنا صحیح ہے اور کیا اس کی نماز ہو جائے گی؟  مہربانی فرما کر حوالہ لکھ دیں۔

جواب

"آمین" ایک دعائیہ کلمہ ہے جس کا معنیٰ ہے: اے اللہ! قبول فرما لیجیے!  اور نماز کی حالت میں کسی دعائیہ کلمہ کا زبان سے ادا کرنا نماز کے لیے مفسد نہیں ہے، خواہ امام کے پیچھے ہو یا انفرادی نماز پڑھ رہا ہو،  لہذا اگر "ربنا لک الحمد" کی جگہ کسی نے "آمین" کہہ دیا تو اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 619)

"(قوله: والدعاء بما يشبه كلامنا) هو ما ليس في القرآن ولا في السنة ولا يستحيل طلبه من العباد، فإن ورد فيهما أو استحال طلبه لم يفسد."

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (3/ 345):

"وهو اسم فعل معناه اسمع واستجب أو معناه كذلك فليكن أو اسم من أسمائه تعالى قاله ابن الملك."

منحة السلوك في شرح تحفة الملوك (ص: 132):

" ومعناها: كذلك فليكن. وقيل: اللهم اسمع واستجب."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201879
تاریخ03-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں