بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خطبہ میں درمیان جملہ میں ٹھہرنا

سوال

امام جمعہ کا  خطبہ میں محمد اجمعین ، اس  کلام میں محمد کہہ  کر ٹھہر جائے،  بعد میں اجمعین کہے تو اس بارے ميں شریعت کا کیا حکم ہے؟

 

جواب

اگر خطیب دورانِ خطبہ  "اجمعین" کے لفظ سے پہلے ٹھہر جائے (مثلًا: درود شریف پڑھتے ہوئے آخری جملہ یوں ہو: "وعلى آل محمد أجمعین") اور  (امام محمد پر وقف کرکے ) اس کے  بعد  "أجمعین" کہے  تو   اس میں شرعًا کوئی حرج  نہیں، بہتر یہ ہے کہ جملہ  ایک  سانس میں مکمل کیا جائے، اس کے بعد ٹھہرا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201855
تاریخ02-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں