بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازم کی صدقہ کی رقم سے امداد کرنا

سوال

کاروبار کی بندش کی صورت میں اپنے ملازمین کی صدقہ کی رقم سے امداد کی جا سکتی ہے؟

 

جواب

اگر کوئی شخص اپنے ملازمین کو تنخواہ کے علاوہ صدقہ کی رقم دیتا ہے تو ایسا کرنا جائز ہے، اس میں شرعًا کوئی حرج نہیں، لیکن صدقہ دینے کی وجہ سے  ملازم سے اضافی کام لینا جائز نہیں ہو گا۔ تاہم واضح رہے کہ  زکات اور صدقاتِ  واجبہ کو تنخواہ  کی مد میں دینا شرعًا جائز نہیں ہے،اگر ملازمین مستحقِ  زکات ہوں  تو  تنخواہ کے علاوہ ان کو  زکات کی رقم دی جاسکتی ہے ۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 47):

"و أما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني؛ لأنها تجري مجرى الهبة."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201853
تاریخ02-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں