بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آپ کے دودھ والی چائے کو میں نے طلاق دے دیا ہے کہنے کا حکم

سوال

 میں ایک ا سکول ٹیچر ہوں اور ہمارے اسکول میں باورچی ا سٹاف کے لیے دودھ اور سبز چائے وغیرہ بناتا ہے، اس باورچی کے ساتھ میری نہیں بنتی، ایک دن باورچی نے پوچھا: آپ دودھ کی چائے پیئں گے یا سبز چائے؟  چوں کہ میں اکثر سبز چائے  پیتا ہوں ۔میں  نے اس کو جواب میں کہا : آپ کے دودھ والی  چائے کو میں نے طلاق دے دیا ہے۔میری مراد  اسکول میں بننے والی دودھ کی چائےکو طلاق دینا تھا۔ اب میں ا سکول سے باہر دودھ کی چائے پی سکتاہوں یا باہر سے منگواکر اسکول میں دودھ کی چائے پی سکتا ہوں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ الفاظ کی وجہ سے آپ پر دودھ والی چائے حرام نہ ہوگی، پس آپ دودھ والی چائے پی  سکتے ہیں، خواہ اسکول میں بنوائیں یا باہر سے منگوائیں۔ 

البتہ ہمیں گفتگو میں  محتاط الفاظ استعمال کرنے  کا  اور حُسنِ  معاشرت کا حکم ہے؛ لہٰذا  اس باورچی  سے اپنا رویہ بہتر کرنے کی کوشش کیجیے، اگر اس کی غلطی بھی ہو تو دَر گُزر کیجیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201830
تاریخ02-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں