بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حور عین نام رکھنا کیسا ہے؟

سوال

”حور   ِعین“  نام رکھنا کیسا ہے ؟

جواب

’’حورِ عین‘‘  کا معنی "سیاہ چشم عورتیں" ہے، جن کی آنکھوں کی سفیدی نہایت سفید اور سیاہی نہایت سیاہ ہو، قرآنِ کریم میں بھی (یعنی سورہ دخان، آیت:54 میں) یہ لفظ استعمال ہوا ہے، لہذا یہ نام رکھنا درست ہے۔

الجامع لاحکام القرآن (تفسير القرطبی) میں ہے:

"كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِينٍ" (54) 

"وَقَالَ أَبُو عَمْرٍو: الْحَوَرُ أَنْ تَسْوَدَّ الْعَيْنُ كُلُّهَا مِثْلَ أَعْيُنِ الظِّبَاءِ وَالْبَقَرِ. قَالَ: وَلَيْسَ فِي بَنِي آدَمَ حَوَرٌ، وَإِنَّمَا قِيلَ لِلنِّسَاءِ: حُورُ الْعِينِ لِأَنَّهُنَّ يُشَبَّهْنَ بِالظِّبَاءِ وَالْبَقَرِ. وَقَالَ الْعَجَّاجُ:بِأَعْيُنٍ مُحَوَّرَاتٍ حُورِ . يَعْنِي الْأَعْيُنَ النَّقِيَّاتِ الْبَيَاضِ الشَّدِيدَاتِ سَوَادِ الْحَدْقِ. وَالْعِينُ جَمْعُ عَيْنَاءَ، وَهِيَ الْوَاسِعَةُ الْعَظِيمَةُ الْعَيْنَيْنِ."

(سورة الدخان،رقم الآية:54، ج:16، ص:153، ط:دارالكتب المصرية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201803
تاریخ02-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں