بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بل جمع کرنے پر اضافی رقم لینا

سوال

میں  میڈیسن کی دکان چلاتا ہو اور ساتھ ہی یہاں بجلی گیس اور دیگر بل جمع کرتا ہوں ۔ ایک بل پر مجھے تقریباً 4 روپے ملتے ہیں،جس سے میرے اخراجات بھی پورے نہیں  ہوتے۔ اسی وجہ سے میں ہر بل پر کسٹمر سے 10 روپے لیتا ہوں ۔اور آخری تاریخ میں 5 بجے کے بعد ہر بل کی رقم کے مطابق ایک ہزار کے اوپر 10 روپے چارج کرتا ہوں۔ مثلاً اگر دس ہزار کا بل ہے تو 100 روپے اضافی۔ اس بارے میں کیا حکم ہے،  کیا یہ اضافی پیسے لینا جائز ہے؟

جواب

وہ دوکان دار جو  بل جمع کرتے ہیں، جس پر کمپنی انہیں ہر بل جمع کرنے  پر پیسے دیتی ہے،  یہ دوکان دار کمپنی کے نمائندے ہوتے ہیں اور کمپنی  کی جانب سے ان پر اضافی چارجز لینے کی پابندی بھی ہوتی ہے، اس لیے دکان داروں کا کسٹمر اور صارفین سے بل جمع کرنے پر الگ سے چارجز لینا جائز نہیں ہے؛ لہذا صورتِ  مسئولہ  میں آپ کے لیے لوگوں سے بل جمع کرنے پر،  چاہے  یہ بل جمع کرنا آخری تاریخ سے قبل ہو یا آخری دن ہو ، دونوں صورتوں میں زائد رقم کا لینا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201798
تاریخ02-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں