بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جانور میں دم، ناک اور کان تہائی سے کم کٹا ہوا ہو

سوال

اگر ایک ہی جانور میں دُم، ناک، کان تہائی سے کم کٹا ہوا ہے، تو اس کی قربانی درست ہے یا نہیں؟

جواب

کسی جانور میں  اگر ناک،کان اور  دُم تینوں کٹی ہوئی ہیں لیکن تینوں ایک تہائی سے کم کٹی ہوئی ہیں تو کوئی حرج نہیں اس کی قربانی جائز ہے، ہر عضو  کا الگ الگ اعتبار ہوگا۔ تاہم اللہ کےراستے میں قربانی کرنے کے لیے اچھے سے اچھے جانور کا انتخاب کیا جانا چاہیے، اس لیے اگر قربانی کرنے والا مال دار ہے تو بہتر یہ ہے کہ اس عیب دار جانور کے بجائے دوسرا بے عیب جانور قربان کرے اور اگر اس کی مالی حیثیت نہیں ہے تو مذکورہ جانور بھی قربان کرسکتا ہے۔

الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (ج:6، ص:323، ط: دار الفكر-بيروت):

’’و في البزازية: و هل تجمع الخروق في أذني الأضحية؟ اختلفوا فيه. قلت: و قدم الشارح في باب المسح على الخفين أنه ينبغي الجمع احتياطا.‘‘

الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (ج:1، ص:275، ط: دار الفكر-بيروت):

’’(قوله: و اختلف في) جمع خروق (أذني أضحية) و ينبغي ترجيح الجمع احتياطا.

(و اختلف إلخ) فقيل: تجمع في أذنين حتى تبلغ أكثر أذن واحدة فيمنع، و قيل: لا تجمع إلا في أذن واحدة كما في الخف، ح (قوله: و ينبغي إلخ) قاله في المنح.‘‘

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201794
تاریخ02-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں