بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا

سوال

فرض نماز کے بعد استغفار کے لئے ہاتھ کا سر پر رکھنا یہ کیساعمل ہے اس بارے میں کوئی ثبوت یا کوئ رائے؟

جواب

فرض نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ درج ذیل ہے:

"بِسْمِ اللهِ الَّذِيْ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ، اَللّٰهُمَّ أَذْهِبْ عَنِّيَ الْهَمَّ وَالْحُزْنَ".

اور یہ دعا امام طبرانی رحمہ اللہ نے ’’المعجم الاوسط ‘‘ میں   اور ’’الدعا ء ‘‘ میں نقل کی ہے،   پوری حدیث ملاحظہ فرمائیں:

"حدثنا بکر قال، نا عبدالله بن صالح قال: نا کثیر بن سلیم الیشکري، عن أنس بن مالك أن النبي صلی الله علیه وسلم کان إذا صلی وفرغ من صلاته مسح بیمینه علی رأسه، وقال: بسم الله الذي لا إله إلا هو الرحمن الرحیم، اللهم اذهب عني الهم والحزن".

(المعجم الأوسط للطبراني، من اسمه بکر: ۴۔۱۲۶،ط:مکتبة المعارف ریاض)

لہذا اگر کوئی شخص اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے سر پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھتا ہے تو جائز ہے،البتہ چونکہ اس حدیث کے کچھ راویوں میں ضعف ہے لہذا اس کو لازمی سمجھنا درست نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201772
تاریخ02-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں