بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عید میلاد کا حکم

سوال

عید میلاد النبیﷺ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کا ذکر یا  آپ کے اوصاف ومحاسن اور عبادات ومعاملات کا ذکرحتی  کہ جس چیز کی ادنیٰ نسبت بھی نبی کریم ﷺکی جانب ہو،  اس کا ذکر  یقیناً  مستحسن اور باعثِ اجروثواب  عمل ہے،  اور بلاشبہ آپ  ﷺ کی دنیا میں آمد  عظیم الشان نعمت ہے، اندھیروں میں ایک روشنی ہے، اس پر ایک مسلمان کا  خوش ہونا فطری  امر، اور محبت کا تقاضا ہے،  البتہ  اس پر خوش ہونے کا وہی طریقہ اختیار کرنا جائز ہے جو  محسنِ کائنات ﷺ سے ثابت ہو، یا صحابہ وتابعین نے اس پر عمل کیا ہو،  یہی آپ ﷺ کی آمد  کے  مقصد  کی حقیقی پیروی ہے،  چوں کہ   رسول اللہ ﷺکی ولادت کے دن کو بطورِعیدمنانے کا ثبوت قرآن و سنت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین اور تبع تابعین  اور ائمہ مجتہدین  میں سے کسی سے ثابت نہیں؛  اس لیے  علماءِ حق اس کو دینِ اسلام  میں اضافہ اور  بدعت کہتےہیں۔

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:

عید میلاد النبی ( صلی اللہ علیہ وسلم )

میلاد منانے کا شرعی حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201760
تاریخ02-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں