بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عرشیاں نام رکھنا

سوال

عرشیان نام رکھنا کیسا ہے؟

 

جواب

"عرشیاں" فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کا معنیٰ ہے: عرش کا سامان اور مقرب  فرشتے۔ (لغاتِ فارسی، ص: 579)

یہ نام نہ رکھا جائے؛ کیوں کہ فقہاء نے فرشتوں کے ناموں پر نام  رکھنے سے متعلق کراہت کا حکم لکھا ہے،  اور عرشیاں بھی مقرب فرشتوں کو کہا جاتا ہے، بہتر ہے کہ اپنے بچوں کے نام انبیاء اور  صحابہ و صحابیات  کے ناموں پر رکھا جائے کہ ایسا کرنا باعثِ برکت ہوتا ہے۔

شرح السنة (12 / 336):
"ويكره التسمي بأسماء الملائكة مثل جبريل وميكائيل؛ لأن عمر ابن الخطاب رضي الله عنه قد كره ذلك، ولم يأتنا عن أحد من الصحابة ولا التابعين أنه سمى ولداً له باسم أحد منهم، هذا قول حميد بن زنجوية".

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201731
تاریخ01-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں