بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آبرو کے بال نوچنا

سوال

عورت کا  ابرو کےبال نوچنے کے متعلق احادیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ موجودہ فیشن کے مطابق  مختلف ڈیزائنوں  کے ساتھ   آبرووئیں  بنانا تو ہرگز جائز نہیں،البتہ جو زائد بال  بدنما لگ رہے ہوں،یا جس سے مردوں کے ساتھ مشابہت ہوتی ہو، ان کو   معتدل حالت پر لانے کے لیے نوچنے یا کاٹنے  کی اجازت ہے، بطور فیشن آبرو کے بال کاٹنے والی  عورت پر حدیث شریف میں  لعنت وارد ہوئی ہے؛ لہذا اس سے بچنا بہت ضروری ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

عن علقمة عن عبد الله قال لعن الله الواشمات والمستوشمات والنامصات والمتنمصات و المتفلجات للحسن المغيرات خلق الله.

(باب تحریم فعل الواصلۃ    والمستوصلہ/ج:6/ص:166/ط:دارالجیل )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201722
تاریخ01-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں