بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

یا بدوح کا وظیفہ کرنا

سوال

"یابدوح"  کیا اللہ کا نام ہے؟  اور اس کا معنیٰ کیا ہے؟  اور اس کا وظیفہ وغیرہ کر سکتے ہیں؟

جواب

’’بدوح‘‘ (بفتح الباء وتخفیف الدال) عبرانی زبان میں اللہ تعالیٰ کا نام ہے، ”یا بدوح“  کا معنی ہوا ’’یا اللہ‘‘؛  لہٰذا ”یا بدوح“ کا وظیفہ کر سکتے  ہیں۔

امداد المفتین میں ہے:

"بدوح یہ لفظ عام طور پر بضم باء و تشدید دال مشہور ہے،  مگر یہ صحیح نہیں، صحیح لفظ بدوح ہے بفتح باء  و تخفیف دال، تحقیق یہ ہے کہ یہ عربی زبان کا لفظ نہیں، بلکہ عبرانی میں اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور اگر عربی قرار دیا جائے تو اس کے معنی عاجز کرنے والے کے ہیں، بہرحال! خدا کا نام ہونا ثابت ہے، تو یا بدوح کا وظیفہ بے تامل جائز ہے۔"

(جلد:2، صفحہ:215، دار الاشاعت)

فقط واللہ  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201710
تاریخ01-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں