بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوران طلوع فجر کی نماز پڑھنا

سوال

 صبح کے ٹائم ،نماز میں دیر ہو جائے اور طلوع کا وقت شروع ہو تو اس ٹائم میں اسی دن کی فرض نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اور اگر پڑھ سکتے ہیں تو قضا نماز کی نیت کریں گے ؟

جواب

اگر کسی شخص کو صبح کی نماز پڑھنے میں تاخیر ہو جائے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے تو وہ  طلوع کا وقت ختم ہو جانے کے بعد (یعنی کلینڈر میں سورج طلوع ہونے کا جو وقت درج ہے اس کے دس منٹ بعد) فجر کی نماز قضا  کی نیت سے پڑھے گا، عین طلوع شمس کے وقت  کوئی نماز پڑھنا جائز نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 372):

"(قوله: بخلاف الفجر إلخ) أي فإنه لايؤدي فجر يومه وقت الطلوع؛ لأنّ وقت الفجر كلّه كامل فوجبت كاملة، فتبطل بطرو الطلوع الذي هو وقت فساد".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201708
تاریخ01-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں