بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عنین کی بیوی کے جدائی کے بعد حق مہر کا مسئلہ

سوال

عنین کی بیوی کی جدائی کے بعد حق مہر کا مسئلہ کیسے ہو گا؟

 

جواب

مسئولہ صورت میں اگر  عنین کی جانب سے خلوتِ صحیحہ پائی گئی؛  او ر اس کے بعد  دونوں کے درمیان جدائی ہوجائے  تو عنین پر پورا  مہر ادا کرنا  لازم ہوگا۔

"عن عبد اللّٰه رضي اللّٰه عنه قال: یؤجل العنین سنةً، فإن وصل إلیها، وإلا فرّق بینهما ولها الصداق".

(المعجم الکبیر للطبراني ۹؍۳۴۳ رقم: ۹۷۰۶)

"والخلوة بلا مانع حسي کالوطء ولو کان الزوج مجبوبا أو عنینًا أو خصیًا في ثبوت النسب وتأکد المهر..." الخ

(تنویر الأبصار مع الشامي، ۴؍۲۴۹-۲۵۴ )

"وإذا وجدت المرأة زوجها عنینًا فلها الخیار، إن شاء ت أقامت معه کذٰلک، وإن شاء ت خاصمته عند القاضي وطلبت الفرقة".

( المحیط البرهاني ، کتاب النکاح / الفصل الثالث والعشرون : العنین ۴ ؍ ۲۳۸ المجلس العلمي )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201689
تاریخ01-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں