بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منہ بھر کر قے کا مصداق

سوال

منہ بھر قے کرنےکامصداق کیا ہے؟

جواب

منہ بھر کر قے سے مراد یہ ہے کہ قے اتنی مقدار میں ہو کہ جس کو روکنا مشکل  ہو، بعض فقہاء کرام نے یہ تعریف کی ہے کہ : جس کو روکنا ممکن نہ ہو، البتہ پہلا قول زیادہ  راجح ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 137):

"(وَ) يَنْقُضُهُ (قَيْءٌ مَلَأَ فَاهُ) بِأَنْ يُضْبَطَ بِتَكَلُّفٍ. 

قَوْلُهُ: بِأَنْ يَضْبِطَ) أَيْ يُمْسِكَ بِتَكَلُّفٍ، وَ هَذَا مَا مَشَى عَلَيْهِ فِي الْهِدَايَةِ وَ الِاخْتِيَارِ وَ الْكَافِي وَ الْخُلَاصَةِ، وَ صَحَّحَهُ فَخْرُ الْإِسْلَامِ وَ قَاضِي خَانْ، وَ قِيلَ: مَا لَايَقْدِرُ عَلَى إمْسَاكِهِ. قَالَ فِي الْبَدَائِعِ: وَ عَلَيْهِ اعْتَمَدَ الشَّيْخُ أَبُو مَنْصُورٍ، وَ هُوَ الصَّحِيحُ. وَفِي الْحِلْيَةِ: الْأَوَّلُ: الْأَشْبَهُ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201660
تاریخ31-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں