بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چوری کے پانی سے غسل کا حکم

سوال

اگر کسی شخص نے چوری کے پانی سے غسلِ جنابت کیا تو کیا اس کا غسل ہو جاۓ گا یا نہیں؟ 

 

جواب

کسی کی ملکیت کا پانی چوری  کرکے  استعمال کرنا جائز نہیں ہے، اس کا گناہ ہوگا، البتہ اس سے غسل ِ جنابت ادا ہوجائے گا۔

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 404):

"(قوله: والرابع ستر عورته) أي ولو بما لا يحل لبسه كثوب حرير وإن أثم بلا عذر، كالصلاة في الأرض المغصوبة."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201600
تاریخ30-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں