بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رشوت دے کر نوکری لینا

سوال

رشوت دے کر نوکری  لینا جائز ہے ؟

 

جواب

واضح رے کہ رشوت لینے اور دینے والے پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے جیسا کہ سنن ابی داؤد میں ہے:

’’عن أبي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»‘‘.

  (3/ 300،کتاب الأقضیة، باب في کراهیة الرشوة، رقم الحدیث: 3580،ط: المکتبة العصریة)

لہذا ا گر کسی نوکری کے آپ اہل ہیں اور تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے باوجود آپ کو نوکری نہیں دی جارہی ہو اور رقم کا مطالبہ کیا جا رہا ہو، تو اس صورت میں بھی رشوت دے کر نوکری حاصل کرنے کی شرعًا اجازت نہ ہوگی، کوئی اور متبادل حلال ذریعہ اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہاں! البتہ اگر آپ مطلوبہ نوکری کے اہل ہوں اور قانونی تقاضے پورے ہوں تو جائز طریقے سے سفارش کے ذریعے  ملازمت حاصل کرنا جائز ہوگا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201536
تاریخ29-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں