بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کے پیسوں سے مہمان نوازی کا حکم

سوال

مدرسہ کی آمدن سے مہمانوں کی ضیافت کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر مدرسہ وقف ہے اور  آمدنی سے مراد لوگوں کا چندہ ہے تو اس کا مصرف مدرسہ کے مصالح  و  مفاد  ہے،  اگر مدرسے  کے پیسے زکات  کے ہیں تو مہتمم کا ان پیسوں سے مہمانوں کو کھانا کھلانا درست نہیں ہے،  اور  اگر نفلی صدقات  ہیں  اورمہمان  مدرسے ہی  کی کسی مناسبت سے آئے ہیں، ذاتی مہمان نہیں ہیں تو  ان پیسوں سے ان مہمانوں کے  لیے کھانے کا انتظام کرنا درست ہوگا،  لیکن  ذاتی مہمانوں کے  لیے ان پیسوں کے استعمال کی اجازت  نہیں ہوگی۔  مدارس کے وقف اموال اور ان کے مصارف بہت نازک اور قابلِ احتیاط امور ہیں،  قیامت کے دن اللہ کے حضور جواب دہی کا استحضار رکھتے ہوئے ان کا استعمال کیا جائے۔

البحر الرائق میں ہے:

"الثامنة في وقف المسجد: أيجوز أن يبنى من غلته منارة؟ قال في الخانية معزيا إلى أبي بكر البلخي: إن كان ذلك من مصلحة المسجد بأن كان أسمع لهم فلا بأس به."

( کتاب الوقف  جلد ۵ / ۲۳۳ / ط : دار  الکتاب الاسلامی )

فتاوی شامی میں ہے :

"صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة."

( کتاب الوقف  مطلب  مراعاۃ غرض الواقفین واجبۃ  جلد ۴ / ۴۴۵ / ط  :  دار الفکر )

فقط  واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201506
تاریخ29-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں