بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چھوٹی لڑکی کے بال کاٹنے کا حکم

سوال

چھوٹی لڑکی کے بال کاٹنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں  چھوٹی    (سات سال سے کم عمر)  بچی  کے بال برابری کی غرض سے کاٹنا جائز ہے،  البتہ فیشن کی غرض  سے  کاٹنا جائز نہیں ہے۔

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

"گھنے اور  لمبے بال عورتوں اور بچیوں کے  لیے باعثِ  زینت ہیں،  آسمانوں میں فرشتے کی تسبیح ہے:

" سبحان من زین الرجال با للحی و زین النساء بالذوائب"،  پاک ہے وہ ذات جس نے مردوں کو داڑھی سے زینت بخشی اور عورتوں کو لٹوں اور چوٹیوں سے ۔ ( روح البیان ص ۲۲۲ جلد ۱)

لہذا بالوں کو  چھوٹا نہ کیا جائے،  البتہ اتنے بڑے ہوں کہ سرین سے بھی نیچے ہوجائیں اور عیب دار معلوم ہونے لگیں تو سرین سے نیچے والے حصے کے بالوں کو کاٹا جاسکتا ہے ۔"

( کتاب الحظر والاباحۃ  جلد ۱۰ / ۱۱۹ / ط :  دار الاشاعت )

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144212201483
تاریخ29-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں