بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض دے کر مقروض سے اُس قرض کے بدلے فائدہ حاصل کرنا جائز نہیں ہے

سوال

زید نے بکر کو 400000 روپے اس شرط پر قرض دیے  کہ جب تک آپ میرا پورا  قرضہ واپس نہیں کرو گے میں آپ کی ایک ایکڑ  زمین آباد کروں گا، کیا یہ جائز ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ قرض دے کر اُس قرض کے بدلے مقروض سے کسی قسم کا کوئی فائدہ حاصل کرنا جائز نہیں ہے، شریعتِ مطہرہ ميں اس فائدہ کو سود کہا  گيا هے، لهذا زيد كا بكر كو اس شرط پر قرضه دينا كه جب تك بكر زيد كو يه پورا قرضه واپس نه كرے زيد بكر كي ايك ايكڑ زمين آباد كرے گا، يه جائز نهيں هے۔

"وَفِي الْأَشْبَاهِ: "  كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ؛ فَكُرِهَ لِلْمُرْتَهِنِ سُكْنَى الْمَرْهُونَةِ بِإِذْنِ الرَّاهِنِ."

وفي الرد:

" ( قَوْلُهُ:  كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ ) أَيْ إذَا كَانَ مَشْرُوطًا، كَمَا عُلِمَ مِمَّا نَقَلَهُ عَنْ الْبَحْرِ". (166/5 )

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201413
تاریخ28-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں