بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

كيا آٹھ سالہ لڑکی کا نکاح والد کی اجازت کے بغیر منعقد ہوتا ہے؟

سوال

آٹھ سالہ لڑکی کا نکاح والد کی اجازت کے بغیر منعقد ہوتا ہے؟

جواب

آٹھ سالہ لڑکی کا نکاح والد کی اجازت کے بغیر  كيا جائے تو وہ والد کی اجازت پر موقوف رہے گا، والد چاہے تو اس کو نافذ  کرسکتا ہے، اور  چاہے تو ختم بھی کرسکتا ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن زوج الصغير أو الصغيرة أبعد الأولياء فإن كان الأقرب حاضرًا وهو من أهل الولاية توقف نكاح الأبعد على إجازته."

(الفتاوى الهندية: كتاب النكاح، الباب الرابع في الأولياء في النكاح (1/ 285)،ط. رشيديه)

فقط، واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201399
تاریخ27-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں