بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناموں کے معانی

سوال

میری بیٹیوں کے نام ابیہہ، مہوش اور انشراح ہیں،  کیا یہ نام صحیح ہیں اسلامی لحاظ سے؟

جواب

1-   ’’أَبِيْهَهْ‘‘ کے معنی باب سمع و فتح سے سمجھ دار ہونے کے آتے ہیں، جیساکہ معجم الرائد میں ہے:

"أبه : (فعل) 1- أبهه : نبهه ، فطنه".

یہ نام رکھ سکتے ہیں، البتہ نام کا صحیح تلفظ کا خیال خود بھی رکھیں اور دیگر احباب کو بھی تلقین کریں، عربی لغت کے اعتبار سے ’’ابیہہ‘‘  تلفظ کے ساتھ  نام بہتر ہے۔ 

2-  اردو  زبان  میں "مہ وش "  درج ذیل  معانی  میں مستعمل ہے:

ایک قسم کی کوئل۔  چاند سی صُورت  والا۔   چاند  کی  مانند۔    مثلِ  ماہ۔

چنانچہ مہوش نام رکھ سکتے ہیں۔ 

3-  "انشراح"  ایک  ہی  لفظ  ہے، اسے  ملا کر لکھا اور  پڑھا جائےگا "ہمزہ " اور "شین"  کے نیچے زیر اور "راء" پر زبر پڑھا جائےگا، اس کے معنی ہیں  "کشادہ ہونا " یہ نام رکھا جاسکتا ہے، مگر صحابیات یا نیک خواتین کے ناموں میں کسی نام کا انتخاب زیادہ بہتر ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201347
تاریخ27-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں