بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وضو کے درمیان وضو ٹوٹنے سے باقی ماندہ وضو کا حکم

سوال

اگر وضو کے درمیان وضو ٹوٹ جائے تو کیا نئے سرے سے وضو کرے یا وہی وضو جاری رکھے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگروضو کے درمیان کسی ناقضِ وضو کی وجہ سے وضو ٹوٹ گیا مثلاً منہ اور دونوں ہاتھ دھونے کے بعد ہوا خارج ہوگئی تو وضو دوبارہ نئے سرے سے شروع کرے۔

کتاب الفقه على المذاهب الأربعة میں ہے:

"ومنها أن لايوجد من المتوضئ ما ينافي الوضوء مثل أن يصدر منه ناقض للوضوء في أثناء الوضوء، فلو غسل وجهه و يديه مثلاً، ثم أحدث فإنه يجب عليه أن يبدأ الوضوء من أوله، إلا إذا كان من أصحاب الأعذار الآتي بيانها، فإذا كان مصاباً بسلس البول، و نزلت منه قطرة أو قطرات أثناء الوضوء فإنه لايجب عليه استشناف الوضوء، كما ستعرفه في -مبحثه-".

(كتاب الطهارة، مباحث الوضوء، شروط الوضوء، ج:1، ص:49، ط:دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201325
تاریخ26-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں