بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عید کے دن مرغی ذبح کرنے کا حکم

سوال

اگر  کوئی شخص  گائے اور  بکرے  وغیرہ کا گوشت نہیں کھاتا ہو تو   کیا عیدالاضحٰی کے دن مرغی ذبح کر سکتے ہیں اور  مرغی کا گوشت  کھا سکتے ہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ جب عید کے دن مرغی کا ذبح کرنا قربانی کی نیت سے نہیں ہے،اور نہ ہی قربانی کرنے والوں کے ساتھ مشابہت مقصود ہے، بلکہ   محض گوشت  حاصل کرنے کی نیت سے ہے تو گوشت  کے لیے مرغی   ذبح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم بہتر ہے کہ عید سے پہلے ہی ذبح  کی  جائے۔ نیز جس شخص پر قربانی واجب ہو، خواہ وہ گائے اور بکرے کا گوشت نہ کھاتاہو، تب بھی اس پر قربانی کا جانور ذبح کرنا واجب ہوگا، ہاں اس کے علاوہ مرغی کے گوشت کے لیے وہ مرغی ذبح کرتا ہے تو کرسکتاہے۔

فتاویٰ عالمگیری (الفتاوى الهندية ) میں ہے:

"وفي أصول التوحيد للإمام الصفار: و التضحية بالديك و الدجاجة في أيام الأضحية ممن لا أضحية عليه لإعساره تشبيهًا بالمضحين مكروه؛ لأنه من رسوم المجوس، كذا في الخلاصة. و من لا أضحية عليه لإعساره لو ذبح دجاجة أو ديكًا يكره، كذا في وجيز الكردري".

(کتاب الاضحیۃ، الباب السادس في بيان ما يستحب في الأضحية والانتفاع بها، ج:5، ص:300، ط:مکتبہ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201323
تاریخ26-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں