بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے نفقہ کی ادائیگی پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے طلاق کا مطالبہ کرنے کا حکم

سوال

اگر شوہر بےروزگار ہے، وہ کچھ بھی نہیں کماتاہے، اس کی بیوی کماتی ہے، اسی کمائی سے اس کا شوہر بھی کھاتا ہے۔ کیا بیوی اس وجہ سے طلاق طلب کرسکتی ہے کہ آپ مجھ پر اور گھر پر بوجھ ہیں؟

جواب

بیوی ، بچوں کا نفقہ شوہر کے ذمہ ہوتا ہے، لہٰذا اگر شوہر جان بوجھ کر گھر میں بے کار پڑا رہتا ہے اور کوئی کام نہ کرنے کی وجہ سے بیوی کا نفقہ ادا نہیں کرتا تو بیوی کے  لیے اس وجہ سے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنے کی گنجائش ہے، لیکن اگر شوہر روزگار کی کوشش میں لگا ہوا ہو اور فی الحال کسی وجہ سے روزگار کا کوئی ذریعہ نہ مل رہا ہو تو ایسی صورت میں بیوی کو جلد بازی سے کام نہیں لینا  چاہیے، بلکہ صبر کر کے اس مشکل وقت میں شوہر کا ساتھ دینا  چاہیے اور شوہر کے روزگار کے  لیے دعا کرنی چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 572):

" (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201281
تاریخ26-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں