بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کا مکمل گوشت تقسیم کرنا

سوال

قربانی کا گوشت رشتہ داروں میں دینا لازم ہے؟ اگر سارا غریبوں میں بانٹ دیا جاۓ؟

جواب

 قربانی  کے  گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنا مستحب ہے، ایک تہائی حصہ فقراء ومساکین کے لیے، ایک حصہ رشتہ داروں اور اقارب کے لیے اور ایک حصہ گھروالوں کے لیے، یہ افضل اور بہتر طریقہ ہے، اگر سب گوشت غریبوں میں تقسیم کردیا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔

الفتاوى الهندية (5/ 300):

"ويستحب أن يأكل من أضحيته ويطعم منها غيره، والأفضل أن يتصدق بالثلث، ويتخذ الثلث ضيافة لأقاربه وأصدقائه، ويدخر الثلث، ويطعم الغني والفقير جميعاً، كذا في البدائع. ويهب منها ما شاء للغني والفقير والمسلم والذمي، كذا في الغياثية.

ولو تصدق بالكل جاز، ولو حبس الكل لنفسه جاز، وله أن يدخر الكل لنفسه فوق ثلاثة أيام إلا أن إطعامها والتصدق بها أفضل، إلا أن يكون الرجل ذا عيال وغير موسع الحال، فإن الأفضل له حينئذٍ أن يدعه لعياله ويوسع عليهم به، كذا في البدائع''.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201272
تاریخ26-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں